بنگلور، 27؍اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کرناٹک حکومت آج بھی اپنے اس موقف پر قائم رہی کہ وہ ریاست میں سنگین مشکلات کی وجہ سے کاویری ندی کا پانی تمل ناڈو کو نہیں دے سکتی ہے۔وہیں کل جماعتی میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ ریاست زمینی حقیقت سے سپریم کورٹ کو آگاہ کرے گی ۔اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد وزیر اعلی سدھارمیا نے کہاکہ تمل ناڈو نے 50ٹی ایم سی فٹ پانی چھوڑنے کو کہا ہے، کیا یہ دیا جا سکتا ہے؟ نہیں، ہم کہاں سے دیں گے، نہیں۔اپوزیشن نے بھی وزیر اعلی کے اس رخ کی حمایت کی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر سال کی طرح کرناٹک کو 50ٹی ایم سی فٹ پانی چھوڑنے کی ہدایت دے،لیکن آج کرناٹک میں کوئی پہل جیسا سال نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔دونوں ریاستوں کو مسائل سے یکساں طور پر گزرنا چاہیے ، ہم نے ابھی تک اسی اصول کی پیروی کی ہے اور عدالت نے بھی زمینی حقائق کی بنیاد پر ہی ایسی ہدایات دی ہیں ۔سدھارمیا نے کہا کہ فی الحال زمینی حقیقت یہ ہے کہ کاویری گھاٹی کے آبی ذخائر، کابن، ہیم وتی ، ہرنگی اور کے آرایس میں کل 51ٹی ایم سی فٹ پانی ہے اور بنگلور، میسورو، مانڈیا اور دیگر شہروں اور کچھ گاؤں میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے کم از کم 40ٹی ایم سی فٹ پانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا، اس لیے پینے اور فصلوں کے واسطے بھی پانی نہیں ہے، یہی زمینی حقیقت ہے، سبھی پارٹیاں اس سے متفق ہیں۔اس میٹنگ میں مرکزی وزیر اننت کمار، لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکاارجن کھڑگے، بی جے پی ایم پی کے ایس ایشورپا، سابق وزیر اعلی اور جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کمارسوامی کے علاوہ وزیر قانون ٹی بی جے چندر اور آبی وسائل کے وزیر ایم بی پاٹل نے بھی شرکت کی۔